سری نگر،23؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) گپکار اعلامیے کے دستخط کنندگان نے ہفتے کے روز جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں یہ عہد ایک بار پھر دہرایا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے لئے یک جٹ ہو کر لڑیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی سرگرمیوں کا محور جموں و کمشیر کے خصوصی درجے کی بحالی ہوگا۔
بتادیں کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی سے ایک روز قبل بی جے پی کو چھوڑ کر باقی تمام جماعتوں کے رہنما فاروق عبداللہ کی گپکار رہائش گاہ پر جمع ہوئے تھے اور 'گپکار اعلامیہ' جاری کیا تھا۔
اعلامیے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ختم یا ریاست کو تقسیم کرنے کی کوئی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے خلاف متحدہ طور پر جدوجہد کی جائے گی۔ اعلامیے کے دستخط کنندگان میں نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، جموں وکشمیر پردیش کانگریس صدر غلام احمد میر، سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی، جموں وکشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، جموں و کشمیر عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر مظفر شاہ وغیرہ شامل ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'جموں و کشمیر کے امن پسند لوگ انتہائی آزمائش و امتحان کی گھڑی سے گزر رہے ہیں۔ ہم سب یہ عہد دہراتے ہیں کہ ہم جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لئے یک جٹ ہو کر لڑیں گے۔ ہم لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی سرگرمیوں کا محور جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کی بحالی ہوگا'۔
دستخط کنندگان نے اپنے مشترکہ بیان میں پانچ اگست 2019 کے واقعات کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'پانچ اگست 2019 کے بدقمست واقعات نے جموں وکشمیر اور نئی دہلی کے درمیان رشتوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ ایک تنگ نظر اور غیر آئینی پہل کے تحت جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کو منسوخ کیا گیا اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کیا گیا'۔
بیان میں کہا گیا کہ سال گزشتہ کے پانچ اگست کو اٹھائے گئے اقدام کلی طور غیر آئینی تھے اور یہ اقدام در اصل، جموں و کشمیر کے لوگوں کی بنیادی شناخت کے لئے ایک چیلینج اور انہیں بے اختیار بنانے کے لئے اٹھائے گئے ہیں۔
مشترکہ بیان میں ہندوستان کے عوام، سیاسی پارٹیوں، دانشوروں اور دیگر سیول سوسائٹی گروپوں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جنہوں نے پانچ اگست کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔ بیان میں بر صغیر کی قیادت سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول اور حقیقی کنٹرول لائن پر طرفین کے درمیان جاری کشیدگی اور جموں و کشمیر میں جاری تشدد کا سنجیدہ نوٹس لیں اور خطے میں پائیدار امن کے لئے اپنا رول ادا کریں۔